عطار ہو, رومی ہو, رازی ہو, غزالی ہو کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی اس شعر کا مطلب ہے, "تہجد گزاری". یعنی جو بڑے بڑے علماء, فلسفی, حکیم اور شاعر گزرے ہیں, انھوں نے اپنی زندگی میں بہت ذیادہ علمی و عملی کام کیا ہے وہ یہ اسی وجہ سے کر پاۓ کہ وہ تہجد گزار تھے. سو وہ سحری میں اٹھ کے اپنے رب تعالی کی بارگاہ میں آہ و زاریاں کرتے تھے تو پھر اللّٰہ تعالیٰ نے ان کو وہ حکمت ، دانائی اور طاقت عطا کی کہ بڑے بڑے کام اپنی زندگی میں کر گئے. اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بھی تہجد گزاری کی توفیق عطا فرماۓ. آمین
Thanks for the compliments.
ReplyDelete