بچوں میں بڑھتا ہوا پرتشدد رجحان
آج کل والدین میں بچوں کے رویے کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے. نہ صرف والدین بلکہ ناقدین بھی یہ بات محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ نوجوان نسل اپنی روایات، ثقافت اور زبان سے ناآشنا ہوتے جارہے ہیں. یہ اردو زبان تو بولتے ہیں لیکن ان کے لہجے سے وہ خوشبو نہیں آتی جو کہ اردو ادب کی کتب میں ملتی ہے. لیکن اس سے بھی ذیادہ جو بات پریشان کن ہے وہ عدم برداشت کا ہونا ہے. گو کہ بہت سے پہلو اس ضمن میں کارہائے فرما ہیں جن میں سے ایک اردو ادب سے دوری شامل ہے. اور اس چیز کا نقصان ہم تو بھگتیں گے ہی لیکن یہ ہمارے معاشرے کے تباہ ہونے کا باعث بنے گی بلکہ اپنے اثرات دکھا رہی ہے. اور اس صورت حال کے ذمہ دار والدین ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کے ہاتھوں میں ٹچ فون 📱 دیے ہوئے ہیں. یا پھر ہر وقت گھر میں ٹیلی ویژن پر فلمیں اور ڈرامے ملاحضہ کیے جارہے ہوتے ہیں. یہ صورت حال بچوں اور نوجوانوں میں بہت سے نفسیاتی مسائل کا سبب بنتی ہیں. لہٰذا والدین ہوش کے ناخن لیں اور اپنے بچوں میں مطالعے کا ذوق پیدا کریں. نہ صرف ان کی بہتر تربیت کے لئے بلکہ ملک و قوم کے مستقبل کے لئے بھی. 🇵🇰
ہمارے بچپن میں بزرگوں کی طرف سے ٹیلی ویژن دیکھنے پہ انتہائی سختی کی جاتی تھی اور صرف رات کا خبر نامہ سننے کی اجازت ہوتی تھی. اور والدین ہمیں رسالے لاکر دیتے تھے جن میں سے نمایاں مندرجہ ذیل ہیں
نونہال،
ہمدرد،
تعلیم و تربیت،
پھول اور اس کے علاوہ
پہیلیوں اور لطیفوں والی کتب اور
انگریزی کی کہانیوں والی کتب.
نوائے وقت ہفتہ وار میں بچوں والے صفحے کا بھی انتظار رہتا تھا.
مجھے خوشی ہے کہ یہ میرے بچپن کے ساتھی تھے. انہی کی بدولت اردو ادب سے ایک لگاؤ ہے
لیکن افسوس کہ آج کل بچوں میں اس چیز کا شدید فقدان ہے. اور ان
کو بچپن میں ٹچ فون، بحودہ کارٹون اور بے جا پیسے ملتے ہیں. جس کی بدولت پڑھائی ان کے لیے بوجھ بنتی جارہی ہے اور وہ معاشرے کے لئے بوجھ بنتے جا رہے ہیں. ان کے جزبات قابو میں نہیں رہے
لہذا محکمہ تعلیم اور والدین سے گزارش ہے کہ اس ضمن میں سوچیں کیونکہ دو نسلوں کو تو ہم تباہ کرچکے ہیں لیکن آنے والی نسلوں کو قابو کرسکتے ہیں.
Comments
Post a Comment