پروفیسر اشفاق صدیقی صاحب اور ڈاکٹر علامہ اقبال


آج ایک سال بیت گیا جناب اشفاق صدیقی صاحب کو ہم سے بچھڑے ہوۓ. پروفیسر اشفاق صدیقی صاحب کا شمار ان چند لوگوں میں ہوتا ہے جو کہ حقیقی معانوں میں استاد کہلانے کے قابل ہیں. جناب نے ساری عمر درس و تدریس کے فرائض نہایت احسن طریقے اور ایمان داری سے سرانجام دیے. اشفاق صاحب درحقیقت ایک درویش صفت ولی اللہ تھے. عاجزی و انکساری ان کے مزاج کا نہایت اہم جز تھی. خوش اخلاقی و خوش الحانی ان کی فطرت میں شامل تھی. فراخ دلی میں وہ اپنی مثال آپ تھے. اگر چاہتے تو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی خوب پیسہ کما سکتے تھے لیکن انہیں پیسے کی ہرگز طمع نہ تھی. اتنے بڑے پروفیسر ہونے کے باوجود شام کے وقت اپنے گھر میں علمی طور پہ کمزور بچوں کو مفت تعلیم دیتے اور اگر کوئ طالب علم معاوضہ یا فیس پیش کرنے کے بارے میں دریافت کرتا تو جلال میں آجاتے. استاد محترم کا آبائ شہر گجرانولہ ہے لیکن عمر کا بیشتر حصہ لاہور ماڈل ٹاؤن میں گزارا جب کہ ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور کے علاقہ جوہر ٹاؤن میں رہائش پزیر ہوۓ اور آخری وقت تک اسی مکان کے مکین رہے. آپ نے ڈی پی ایس سکول میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیے.

عجب شخصیت تھی جسے اپنے پیشے سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا اور علم بانٹنا اپنا فرض سمجھتے تھے. جو بھی ملتا اس سے ایسے گھل مل جاتے کہ وقت کا احساس ہی نہ ہوتا کہ کیسے گزر گیا. پیار و محبت سے پڑھاتے اور کبھی بھی ہم نے انہیں غصے میں نہیں دیکھا. عموماً اپنے کام خود کرتے حتاکہ چاۓ کی طلب ہوتی تو وہ بھی خود ہی تیار کرلیتے. سیر و سیاحت میں دلچسپی رکھتے تھے. ہلکی سی مسکراہٹ ان کے ہمراہ رہتی جو کہ اس وقت بھی موجود تھی جب وہ دنیا سے رخصت ہوچکے تھے. آپ (رح) کے جنازہ میں کثیر تعداد میں اساتذہ و طالب علموں سمیت بہت سے لوگوں نے شرکت کی. 
استاد محترم کے والد صاحب واپڈا میں افسر تھے. اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہوۓ بتاتے ہیں کہ جن دنوں پنجاب کی سرزمین "سیم زدہ" ہوگئ تھی تو محکمہ واپڈا نے حکومت پاکستان کی ہدایت پہ عمل کرتے ہوۓ مختلف علاقوں میں ٹیوب ویل نصب کرنا شروع کردیے. اشفاق صاحب اس وقت چھوٹے تھے لیکن اپنے والد محترم کے ہمراہ ان کی سرکاری جیپ میں جاتے اور تھک کر پچھلی سیٹ پر آرام فرماتے. اس طرح انہوں نے پنجاب کے مختلف علاقوں کا دورہ کرلیا. 

محترم اشفاق صاحب کے طالب علموں کا شمار ملک کے بڑے بڑے سیاست دانوں سمیت بہت سے سرکاری اور غیر سرکاری افسروں میں ہوتا ہے جو مختلف اداروں میں ملک کی خدمت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور یہ وہ شاگرد ہیں جو آج بھی ان کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں. اس کی وجہ صرف و صرف وہ مخلص پن اور محبت کا خالص جزبہ ہے جو کہ انہیں اپنے طالب علموں کے ساتھ تھا. اشفاق صاحب آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور یہ چراغ بھجا نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے چلتا رہے گا. 

چونکہ اس ویب سائیٹ پہ آج کل موضوع گفتگو حضرت علامہ اقبال (رح) کی شخصیت ہے تو اسی وجہ سے ان کے ایک سچے عقیدت مند کا تذکرہ ضروری خیال کیا. سر اشفاق صدیقی صاحب کو حضرت اقبال کی شخصیت سے بہت گہرا لگاؤ تھا. جب کبھی بھی علامہ اقبال کے اشعار کی تشریح سمجھنے کی ضرورت پیش آتی تو وہ پروفیسر صاحب نہایت احسن طریقے سے اس کی تشریح فرماتے اور اس کے ساتھ حالات حاضرہ پہ تبصرہ کرتے ہوۓ ان مقامات کی نشان دہی کرتے جو اقبال کی شاعری سے مطابقت رکھتے تھے.

 گزستہ سال بروز ١۰ نومبر ۲۰١٧ء کو شام سات بج کر تیتس منٹ پر اپنی فیس بک پروفائل پر محترم اشفاق صاحب نے حضرت واصف علی واصف (رح) کی ایک عبارت جو کہ علامہ اقبال کے متعلق تھی پہ اپنے ان الفاظ میں تبصرہ تحریر کیا:

"اقبال واقعی. ایک درویش اور قلندر تهے.....ایک وزیر یا گورنر بننا انکے لیے مشکل نہ تها مگر اقبال نے دل کی بات مانی....ایران کے انقلاب میں انکی فارسی شاعری کا ایم کردار تها....
ہماری قوم کو کلام اقبال کی سمجھ سے دور رکھنے میں کچھ قوتیں کامیاب رہی ہیں.....کتنے افسوس کی بات ہے......." 

افسوس کہ اس اہم اور آخری پوسٹ کو شیئر کرنے کے چند دنوں بعد ہی 15 نومبر 2017 کو وہ اس جہان فانی سے کوچ کرگۓ. لیکن جاتے جاتے وہ ہمیں ڈاکٹر علامہ اقبال کے بارے میں نہ صرف اہم پیغام دے گۓ ہیں بلکہ ہمارے زمہ ایک اہم کام بھی لگا گۓ ہیں جیسا کہ اس تحریر میں واضح ہے کہ ہمیں ان باطل قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا جو کہ اقبال کے کلام کو ہماری سمجھ سے دور رکھنے کے لیے کوشاں ہیں. 

سر اشفاق صاحب سے آخری ملاقات میں بھی حضرت اقبال کے بارے میں گفتگو ہوئ اور انہوں نے تلقین کی کہ اقبال کا پیغام ہمارے لیے یہ کہ اگر ہم اپنے دل میں شوق پیدا کرلیں بلندی کا تو اللہ تعالی یقیناً ہمیں بلندی عطا کرے گا اسی لیے ہمیں اپنی سوچ کو مثبت رکھتے ہوۓ محنت کے ساتھ اونچے مقصد کے لیے کام کرنا چاہیے مگر بدقسمتی سے آج کل ہمارے نوجوان کم ہمتی سے کام لیتے ہیں جس کی بدولت وہ اپنی زندگی میں کوئ خاص کام کرنے سے مرحوم رہتے ہیں. اگر ہم اپنے اندر شوق بلندی پیدا کرلیں تو ہمیں (مسلمانوں) کو جلد ہی اپنا کھویا ہوا بلند مقام حاصل ہوجاۓ گا. 

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پروفیسر اشفاق صدیقی صاحب (مرحوم) کے درجات بلند فرماۓ اور ہمیں ان کے سیکھاۓ ہوۓ علم کو بروکار لاتے ہوۓ ملک و ملت اور دین اسلام کی بہتر خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے. 

العارض:
محمد باسل
(ایڈیٹر کے ڈبلیو ایف)

Comments

Popular posts from this blog

بچوں میں بڑھتا ہوا پرتشدد رجحان

Visit to Sawansingwala, Punjab.

تہجد گزاری کی اہمیت, حضرت علامہ اقبالؒ کے شعر کی روشنی میں (تحریر: پروفیسر ڈاکٹر راشد صاحب)