کیپٹن معراج محمد شہید ؒ
کیپٹن معراج محمد شہید، افواج پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا باب ہے جسے فراموش کرنا ممکن ہی نہیں. آپ شجاع، بہادری اور ذہانت کی ایک اعلی مثال کے طور پہ جانے جاتے ہیں. ایف ایس سی میں نمایاں نمبر حاصل کرنے کے باوجود آپ نے میڈیکل کالج کی بجائے پاکستان ملٹری اکیڈمی کا رخ کیا اور وہاں سے اعزازی شمشیر حاصل کی. آپ میں قائدانہ صلاحیت پائی جاتی تھی. آج بھی ان کی بٹالین ان کو بہادری اور بحیثیت نڈر سالار کے طور پہ یاد رکھتی ہے. وہ کام کے وقت افسر اور باقی اوقات میں سپاہیوں کے معمولات کا خیال رکھتے تھے. آپ ذاتی طور پہ اہل تصوف سے عقیدت رکھتے تھے اور پشتو کے مشہور صوفی بزرگ رحمان بابا رحمۃ اللہ علیہ کا کلام اکثر سنتے اور پڑھتے تھے. ان کے ساتھ ہونے والی کرامت یہ تھی کہ وہ چاند کی چودھویں تاریخ کو پیدا ہوئے، اور اسی تاریخ کو ٹاپ اور بہت سی کامیابی ان کے دامن کا حصہ بنی اور سب سے بڑھ کر جس روز جام شہادت نوش کیا اس دن بھی چاند کی 14 تاریخ تھی. دشمن نے آپ سے وہشت کھا کر ایک چوک کا نام معراج شہید چوک رکھ دیا تھا. چار جون 2009 بروز شہادت آپ کو دفتر میں وائر لیس موصول ہوئی کہ 15 پولیس کے قافلے پہ شدت پس...