ڈاکٹر علامہ اقبال کی شاعری
وہی میری کم نصیبی، وہی تیری بے نیازی
مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی
میں کہاں ہوں تو کہاں ہے یہ مکاں کہ لا مکاں ہے
یہ جہاں میرا جہاں ہے کہ تیری کرشمہ سازی
اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و ساز رومی، کبھی پیچ و تاب رازی
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہوکرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی
نہ زباں کوئی غزل کی، نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دل کشا صدا ہو، عجمی ہو یا کہ تازی
کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگمان حرم سے
کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی
Comments
Post a Comment