سوشل میڈیا پہ بڑھتا ہوا چاۓ کا رجحان

"آج کا موضوع ہے "چاۓ کا سٹیٹس
M@G Photography

سوشل میڈیا پہ چاۓ کے بڑھتے ہوۓ رجحان کو دیکھ کر ہم نے اپنے حلقہ زوق کے لیے مندرجہ بالا سوالیہ سٹیٹس لگایا  

جس کے جواب میں دوستوں نے اپنی راۓ سے ہمیں سرفراز کیا. اس مشق کا مقصد طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ اردو ادب کو اجاگر کرنا بھی تھا. 

(ڈاکٹر راحیلہ صاحبہ (ماہر غذائیت
کیونکہ چاۓ زندگی ہے. چاۓ ایک احساس ہے. چاۓ ہر چیز ہے. چاۓ بس چاۓ ہے.
ایک اور موصوف جنہوں نے چاۓ کے سٹیٹس کو وقت کا ضیاع قرار دیا کے جواب میں فرمایا کہ, ہر قسم کا سٹیٹس ہی وقت کا ضیاع ہے تو پھر چاۓ کے سٹیٹس کو ہی کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ کیا چاۓ کا سٹیٹس لگانے میں زیادہ وقت لگتا ہے.

جناب چوہدری ڈاکٹر زاہد نذیر صاحب
 (ہارٹیکلچرسٹ)
"یہ سٹیٹس لگانا ایک فضول کام ہے."

(ملک منیب شاکر صاحب (شعبہ ہارٹیکلچر
کیونکہ آج کل مہنگائ کہ دور میں یہی ایک چیز ہے جسے ہم برداشت کرسکتے ہیں."
M@G Photography 

(ارسلان جٹ صاحب (شعبہ اگرانومی
"اس لیے کہ پاکستان چاۓ کو برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے."

(ارسلان سندھو صاحب (شعبہ حیوانات
"بس چاۓ کچھ بھی نہیں محض یہ ایک بہانہ ہے  رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ بیٹھنے کا."

چوہدری اسلم گجر صاحب انٹر نیشنل فوٹوگرافر:
ان جناب نے ہمیں چاۓ کی چند تصاویر ارسال کیں
اس ویڈیو کا زرائع ⬇
https://www.facebook.com/maggraphy/

(عثمان حیدر صاحب (ادارہ زمینی تحقیق
چاۓ سے طبیعت میں جوش و نرمی آتی ہے. اور چاۓ پیتے ہوۓ اپنے قریبی دوست کو نہیں بھولتے. ایک ساتھ پینا اچھا ہے بجاۓ اس کے کہ تنہائ میں پی جاۓ.

(محمد طلحہ لاہور (شعبہ ڈیری سائنس
"کیونکہ چاۓ زندگی ہے."

(شیخ اسد اعجاز صاحب (شعبہ فوڈ سائنس
"میں نے آج تک نہیں لگایا چاۓ کا سٹیٹس."

(اسدللہ گوہر صاحب (شعبہ خرد حیاتیات
"بھائی جو پہلی اور آخری محبت ہو اس کا اظہار کرنا تو بنتا ہی ہے."
سوال: محبت چاۓ سے ہی کیوں؟ لسی یا دودھ کیوں نہیں؟
جواب: "ہم مشرقی لوگ ہیں اور گندمی رنگ پسند کرتے ہیں جبکہ یہ خوبی لسی اور دودھ میں موجود نہیں۔"

(چوہدری محمد رباس صاحب (سیاسی کارکن
"چاۓ ایک ایسی محبت ہے جس کے بغیر کچھ نہیں چلتا, روٹی نہیں ہضم ہوتی اور بخار ہوجاتا ہے."

(عمیر اعوان صاحب (ضلعی ناظم طلبہ اے ٹی آئ
"کیونکہ ہم ہمیشہ اپنا وقت ضیاع کرنے کا طریقہ دھونڈ رہے ہوتے ہیں. چاۓ پینا بہت اچھی بات ہے. مجھے خود پسند ہے لیکن اس کا سٹیٹس لگانا ایک فضول کام ہے."

(محمد عثمان (شعبہ حشرات
"چاۓ محبت کی علامت ہے. یہ کبھی دھوکہ نہیں دیتی. یہ سکون کا احساس پیدا کرتی ہے. ماضی کی کچھ ناقابل فراموش یادوں کے ساتھ."

(چوہدری گلزار گجر صاحب (شعبہ خوراک
"کیونکہ یہ ہماری خوراک کا اہم جز بن چکی ہے."
سوال: کیا یہ ایک نشہ ہے؟
جواب: "نکوٹین کی کچھ مقدار کی موجودگی خون کی گردش تیز کردیتی ہے. سمجھ لیں جیسے سگریٹ کی ایک لت."

(رانا علی صاحب (شعبہ ڈیری ڈویلوپمنٹ
"چاۓ کبھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتی."

انعام الرحمان شعبہ بائیوٹیکنالوجی کی جانب سے یہ فوٹو بھیجی گئ


(شاہ زیب صاحب (شعبہ زراعت
کیونکہ یہ صرف بندہ اپنے گہرے اور اچھے دوستوں کے ساتھ ہی پیتا ہے. ایک چاۓ ہی تو ہے جو ہر جگہ ساتھ دیتی ہے خوشی و غمی میں. قلبی سکون کا زریعہ ہے یہ.


ایڈیٹر کی راۓ
ان تمام ساتھیوں کا مشکور ہوں جنہوں نے چاۓ کے بارے میں اظہار خیال کیا.
در حقیقت جی دار لوگ ہی چاۓ کے شوقین ہوتے ہیں جب کہ چاۓ نوش تو بہت ہیں لیکن چاۓ کو سمجھتے اور جانتے بہت کم لوگ ہیں. چاۓ سے واقفیت کا فقدان ایک المیہ بھی ہے اور اس کا رجحان حالات حاضرہ کی رو سے مستقبل میں اردو ادب کی دنیا میں روایتی محبوب کا طاقت ور رقیب ثابت ہونے جارہی ہے. عوام الناس کی وسیع فہمی ہی اس مسئلہ چاۓ کو حل کرسکتی ہے.
شکریہ
☕🍵☕🍵☕🍵

Comments

Popular posts from this blog

بچوں میں بڑھتا ہوا پرتشدد رجحان

Visit to Sawansingwala, Punjab.

تہجد گزاری کی اہمیت, حضرت علامہ اقبالؒ کے شعر کی روشنی میں (تحریر: پروفیسر ڈاکٹر راشد صاحب)